4 اکتوبر، 2026، 3:16 PM

جنگ اور سفارت کاری دونوں کے لیے مکمل تیار ہیں، عراقچی

جنگ اور سفارت کاری دونوں کے لیے مکمل تیار ہیں، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ نیویارک میں ایرانی وفد کی مؤثر سفارتی سرگرمیوں کے بعد امریکا کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا دعویٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایرانی وفد کی موجودگی سے کتنا پریشان ہوا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا دعویٰ انتہائی عجیب ہے۔

عراقچی نے ایران میں تعینات سفیروں اور سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے وہ ان تمام سفیروں اور نمائندوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے نیویارک میں ایرانی صدر اور ان کی ملاقاتوں کا انتظام کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک میں ایرانی وفد کی موجودگی مضبوط اور مؤثر رہی۔ متعدد ملاقاتوں اور انٹرویوز کے علاوہ ایرانی صدر کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقریر، ان کی اپنی تقاریر، صدر اور ان کی مختلف فکری و علمی شخصیات سے ملاقاتیں اور سب سے بڑھ کر اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان موجود اختلافات اور جاری جنگ کے حل کے لیے پیش کیا جانے والا منصوبہ اس دورے کی اہم خصوصیات تھیں۔

عراقچی کے مطابق ایران کے پیش کردہ اس منصوبے کو 7 روزہ منصوبہ کہا جاتا ہے، جس پر عمل درآمد سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی۔ ان اقدامات کے باعث اس سال نیویارک میں ایران کی سفارتی موجودگی فعال رہی اور وہاں کا سیاسی ماحول بھی ایرانی منصوبے سے متاثر ہوا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سب پر واضح ہوگیا کہ ایران اب بھی سفارت کاری اور پرامن حل تلاش کرنے کے لیے سنجیدہ ہے، جس طرح وہ اپنے دفاع کے معاملے میں بھی سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دفاع اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ اگر دشمن فوجی راستہ اختیار کرے گا تو اسے ماضی سے زیادہ سخت جواب ملے گا، لیکن اگر وہ سفارتی راستے اختیار کرنا چاہتا ہے تو ایران سفارت کاری کے ذریعے ایک باعزت حل تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔

عراقچی نے کہا کہ نیویارک میں ایران نے اپنے مؤقف کو واضح طور پر پیش کیا اور بعض حلقوں کا یہ تصور مکمل طور پر ناکام ہوگیا کہ وہ ایران کو ایک تنہا ملک میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے امریکا کی جانب سے ایرانی سفارت کاروں کو نکالنے کے دعوے پر کہا کہ یہ دعوی واقعی عجیب ہے۔ ان کے بقول، اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام ایرانی وفد کی موجودگی سے کس قدر ناراض ہوئے۔

عراقچی نے کہا کہ ایرانی سفارت کاروں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھرپور کردار ادا کیا اور ایران نے تمام شعبوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں دوستانہ ماحول میں ہوئیں اور ایران نے ان ممالک کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے مشترکہ ارادے کے تحت کوششیں جاری ہیں۔

عراقچی نے یورپی ممالک کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے یورپی ممالک ایران کے بارے میں اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا ایران کے خلاف جنگ میں شرکت کا اعتراف ایک سنگین معاملہ ہے۔ ان کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ یورپ میں موجود اڈوں سے 5 ہزار سے زیادہ جنگی طیاروں نے پروازیں کیں۔ ایران منتظر ہے کہ یورپی ممالک اس بارے میں وضاحت پیش کریں۔

انہوں نے یورپی ممالک کو تجویز دی کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور امریکا اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے کسی بھی جنگی اقدام سے گریز کریں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امید ہے امریکا عقل اور منطق کا راستہ اختیار کرے گا، تاہم اگر وہ فوجی راستہ اپناتا ہے تو ایران ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے۔

عراقچی نے کہا کہ امریکا ماضی میں جنگ بھی ہار چکا ہے اور سفارت کاری میں بھی ناکام رہا ہے۔ پابندیوں کا بھی کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی فوجی کارروائی اور پابندیاں کوئی حل ہیں۔ صرف سفارتی حل ہی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے اور ایران کے خلاف جارحیت کے خاتمے میں مدد دے سکتا ہے۔

News ID 1941851

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha